Sunday, September 11, 2011

قلم کارواں حویلیاں کا پندرہ روزہ اجلاس

قلم کارواں حویلیاں کا پندرہ روزہ اجلاس ہزارہ کی معروف ادبی تنظیم قلم کارواں کا پندرہ روزہ اجلاس گزشتہ روز (مورخہ 11 ستمبر 2011 بروز اتوار، شام 5 بجے) پروگریسیو اکیڈمی حویلیاں میں انعقاد پذیر ہوا، اجلاس کا باقاعدہ آغاز اسفر آفاقی نے تلاوت کلام پاک سے کیا، نطامت کے فرائض کارواں کے جنرل سیکرٹری فرحان انجم نے سر انجام دیئے جبکہ مسند صدارت پہ معروف صوفی شاعر جناب سید نذیر شاہ کسیلوی تشریف فرما تھے۔ حسب روایت اجلاس دو ادوار پہ مشتمل تھا، پہلے دور میں ساجد خان نے افسانہ "عُرس" اور خورشید احمد عون نے طنز و مزاح سے مزین تحریر "داستان خواجہ سرا" تنقید کے لیے پیش کی۔ دوسرا دور شعری نشست پہ مشتمل تھا، جن شعرائے کرام نے کلام پیش کیا اُن میں راقم السطور (کاشف بٹ) کے علاوہ فرحان انجم، یاسر، خداداد خالد، خورشید احمد عون، ساجد خان، سعد اللہ سورج، اسفر آفاقی، عرفان تبسم، قاضی ناصر بخت یار اور صاحب صدارت سید نذیر شاہ کسیلوی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ اجلاس میں قاضی ناصر بخت یار اور غفران الٰہی جامی کے لیے قرارداد تہنیت بھی پیش کی گئی، حال ہی میں قاضی ناصر بخت یار کا ہندکو شعری مجموعہ "چھکے بچ پھل" شائع ہوا ہے جبکہ غفران الٰہی جامی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں۔