Monday, September 26, 2011

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

عقائد کا انسان سے تعلق بہت گہرا اور پُرانا ہے، ابتدائے آفرنیش سے انسان کسی نہ کسی عقیدے سے جڑا رہا ہے اور اُس کی یہ وابستگی اُس کی عقل اور اُسےکے جذبات کے ساتھ ساتھ چلتی آئی ہے، لیکن جب کبھی انسان نے اپنی عقل کو پس پشت ڈال کر صرف جذبات کا سہارا لیا ہے تو اُس سے انتہائی درجے کی اغلاط سرزد ہوئی ہیں جن سے نہ صرف اُس نے اپنا نقصان کیا ہے بلکہ انسانیت کے پورے نظام کو متاثر کیا ہے۔
مسلمانوں میں بالعموم اور پاک و ہند کے مسلمانوں میں بالخصوص ایک کمزوری رہی ہے کہ یہ لوگ شخصیات کے سحر میں مبتلا رہے ہیں، شخصیت پرستی نے اس خطے کے لوگوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود کر رکھی ہے، اور ایسا ہی معاملہ ان کے مذہبی معاملات کا ہے (دینی نہیں)، اللہ عزوجل نے مومنین کو اپنے معاملات قرآن کی نظر سے دیکھنے کا حکم دیا تھا لیکن ہمارے خطے کے لوگوں نے قرآن کو فقہی مولویوں کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور کلی طور پہ ملا کی ذہنیت کے غلام ہو گئے ہیں، یہی وہ نقطہ ہے جس کی وجہ سے اس خطے کے مسلمانوں کی فکر ارتقائی منازل طے کرنے سے قاصر ہے اور جاہلانہ فیصلوں کو بلاسوچے سمجھے حق مان لینے پہ ہر وقت تیار رہتی ہے، نسلی، لسانی، علاقائی اور جانے کتنی بنیادیں ہیں جن پہ یہاں آئے روز انسانوں کی تقسیم ہوتی ہے، عرصہ پہلے میں نے ناموس رسالت سے متعلق اپنے ایک کالم میں لکھا تھا:
{اُمتِ مسلمہ کے افراد اِن علماء کے خطابات کی روشنی میں اسلام کو سمجھتے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسلام کی روشنی میں ان کے خطابات کو پرکھا جائے لیکن ایسا نہیں ہوتا کیونکہ اپنے پیشے کی بقا کے لیے اِن مذہبی علماء نے ایک طویل عرصہ کھیل رچایا ہے جو اب عوام کو حقیقت محسوس ہونے لگا ہے، بازار میں فتووں کی ضحیم کتابیں موجود ہیں جن میں ایسے فتووں کی کوئی کمی نہیں جو باہم متصادم تو ہے ہی لیکن اسلام سے بھی متصادم ہیں، اِن مذہبی علماء نے اسلام کو مسلک کے نام پر اتنے مذاہب میں تقسیم کر دیا ہے جس کی مثال پہلی امتوں میں بھی نہیں ملتی، اِن مذاہب کی بنیادات میں جھانکا جائے تو معلوم ہو گا کہ نفرتوں کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور کیسے آگے بڑھا اور بڑھتا جا رہا ہے مگر ملتِ اسلامیہ کے افراد اِس جانب توجہ نہیں دیتے اُن کے لیے تو دینِ اسلام اُسی مذہب تک محدود ہو گیا ہے جس کی تعلیم اُن نے اُس شخص یا مدرسے سے حاصل کی ہے جس کی جانب والدین نے انہیں حروفِ تہجی کا قاعدہ دے کر بھیجا ہے کیونکہ والدین نے اپنے بچپن میں بھی یہی فعل سرانجام دیا تھا، موروثیت نے فکری قوتوں کے استعمال کو بہت پائمال کیا ہے لیکن۔۔۔}
آج میرے پیش نظر وہ واقعہ ہے جس کی وجہ سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ کو اس الزام کے تحت توہین رسالت کا مجرم قرار دے دیا گیا کہ اُس نے اُردو کے پرچے میں لفظ (نعت) کو املا کی غلطی کی وجہ سے (لعنت یا لغت) سے بدل دیا ہے جبکہ یہ بات کوئی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ آٹھویں جماعت کی طالبہ سے املا کی اغلاط سرزد ہو سکتی ہیں، چلیں یہ تو پھر ایک بچی ہے میں نے اپنے ادبی و صحافتی سفر میں اکثر بزرگ لکھاریوں کی تحاریر میں بھی املا کی سنگیں اغلاط دیکھی ہیں لیکن اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اغلاط کو بہانہ بنا کے اپنی منفی سوچ کو عملی جامہ پہنائے، مذکورہ بچی کے لیے جاہل مولویوں کے پیروکاروں نے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا اور اُسے نہ صرف اسکول سے فارغ ہونا پڑا بلکہ اُس کے پورے خاندان کو رہائشی علاقے سے بھی بے دخل ہونا پڑا، دراصل اس واقعے کے پیچھے ایک اہم بات اُس بچی کا مسیحی برادری میں سے ہونا ہے اور یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ہم لوگ بوجوہ اقلیتوں کو پاکستان میں رہنے کی اجازت تو دیتے ہیں لیکن اُن کے لیے اپنے دل میں جگہ نہیں بنا سکتے، ایسے پاکستانیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو معاشرے کے تمام افراد کے لیے مساوی سوچ رکھتے ہیں۔
حیرت ہے کہ جن مولویوں کے فیصلے کی وجہ سے پی او ایف حویلیاں کینٹ کی عوام کے جذبات بے ہنگم ہوئے ہوئے ہیں وہ مولوی حضرات کبھی ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی نہیں ادا کر سکتے۔ علاقے کے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کیے سوچنے کا انداز جداگانہ ہے، انہیں اس واقعے میں کسی سازش کا عنصر نظر آتا ہے اور حقیقت کچھ اس سے مختلف بھی نہیں، لیکن ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ جہاں اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والوں کو بھی واجب القتل سمجھ لیا جاتا ہے، سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
امید ہے سول سوسائٹی اس معاملے میں اپنا کرادار ادا کرے گی اور بچی اور اُس کے خاندان کے لیے انصاف کے راستے ہموار کرے گی، اسکول کی استانی فریدہ بی بی (جس نے غلطی کی نشاندہی کی اور اپنے جاہلانہ عمل سے رائی کا پہاڑ بنایا) اور اُن جاہل مولویوں کو بھی عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہیے جن کے جاہلانہ فیصلوں نے عوام کو مشتعل کیا۔
ہمیں اپنی معاشرتی اقدار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، رواداری، برادشت، انصاف اور فکری صلاحیتوں کی بیداری میں ہی ہمارے معاشرے کی اصلاح کا راز مضمر ہے۔
کاشف بٹ
حویلیاں کینٹ