Sunday, December 9, 2012

Snaps Regarding Book Launching Cermony



























Book Launching Ceremony


تقریبِ رونمائی ’’ثقافتِ ہزارہ اور اس کا تاریخی پسِ منظر‘‘ اور ’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘
رپورٹ: اسفر آفاقی
مورخہ ۸ دسمبر بروز ہفتہ گورنمنٹ پرائمری اسکول حویلیاں کے ہال میں ایک پُروقار ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کا بنیادی مقصد دو کتب کی تقریبِ رونمائی تھا جن میں سے ایک معروف شاعر کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘ تھی اور دوسری کتاب ’’ثقافتِ ہزارہ اور اس کا تاریخی پسِ منظر‘‘ معروف شاعر و محقق محمد بشیر رانجھا کی تحقیق پہ مشتمل تھی جسے ہزارہ چیئر ہزارہ یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام شائع کیا گیا، تقریب کی نظامت معروف افسانہ نویس ساجد خان نے کی، ملکی سطح پہ معروف شاعر و ادیب اور حرف اکادمی پاکستان کے صدر نشین جناب کرنل (ر) سید مقبول حسین اِس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ جناب اسد بیگ، محترمہ فرزانہ جاناں اور جنابِ پروفیسر محمد زمان مضطر مہمانانِ اعزاز کی حیثیت سے شریکِ محفل تھے، معروف شاعر و ادیب اور ڈائریکٹر ہزارہ چیئر جناب پروفیسر بشیر احمد سوز مسندِ صدارت پہ تشریف فرما تھے، تقریب کا باقاعدہ آغاز سردار عبدالمالک نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جناب ساجد خان، جناب خورشید احمد عون، جناب پروفیسر محمد سفیان صفی، جناب اسد بیگ، محترمہ فرزانہ جاناں، جناب کرنل (ر) سید مقبول حسین اور صاحبِ صدارت جناب پروفیسر بشیر احمد سوز نے دونوں کتب کے حوالے سے اپنے مضامین پیش کیے جبکہ جناب پروفیسر محمد زمان مضطر نے جناب کاشف بٹ اور جناب محمد بشیر رانجھا کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا، مجموعی طور پہ دونوں کتب کو اُردو ادب میں گراں قدر اضافہ قرار دیا گیا۔
’’ثقافتِ ہزارہ اور اس کا تاریخی پسِ منظر‘‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جناب خورشید احمد عون نے کہا کہ ہزارہ کی ثقافت کو محفوظ کرنے کا سہرا جناب بشیر رانجھا صاحب کے سر جاتا ہے اُنھوں نے انتہائی جانفشانی اور خلوص سے اس کتاب کو مرتب کیا ہے اور ہم اہلِ ہزارہ کے لیے اُن کا یہاں قیام باعثِ فخر و افتخار ہے، جنابِ ساجد خان نے کہا کہ یہ کتاب ہزارہ کی ثقافت کو اُجاگر کرنے میں ایک کامیاب کاوش ہے اور اس کی اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جائے گی، جناب پروفیسر محمد سفیان صفی نے کہا کہ یہ ہزارہ کے حوالے سے اپنی نوعیت کی واحد اور اولین کتاب ہے جو مباحث کے در وا کرے گی اور آنے والے مورخین اور محققین کے لیے بنیادی حوالے کا کام دے گی، جناب اسد بیگ نے کہا کہ اِس کتاب سے ملک کے دوسرے خطوں کے لوگوں کو ہزارہ کی ثقافت تک رسائی میسر آئی ہے، محترمہ فرزانہ جاناں نے کہا کہ اِس کتاب نے ہمیں ہزارہ کے بہت قریب کر دیا ہے میرے لیے یہ کتاب کسی سرمایہ سے کم نہیں، جناب کرنل سید مقبول حسین نے کہا کہ محمد بشیر رانجھا کو اس تحقیقی کام پہ جتنی بھی مبارک پیش کی جائے کم ہے انھوں نے ہزارہ سے اپنے تعلق کو اِس کتاب کے ذریعے سے امر کر دیا ہے، جناب بشیر احمد سوز نے کہا کہ ہزارہ کی ثقافت پہ تحقیق کرنا ایک مشکل کام تھا مگر موصوف نے بڑی خاموشی اور پُراسراریت میں رہ کر اس کام کو سرانجام دیا مجھے خوشی ہے کہ یہ کتاب ہزارہ چیئر کے پلیٹ فارم سے شائع ہوئی۔
’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جناب خورشید احمد عون نے کہا کہ کاشف بٹ کی شاعری میں مذہبی اجارہ داری اور سیاسی منافقت کے خلاف بھر پور آواز موجود ہے وہ فکری صلاحیتوں کے احیا کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، جناب ساجد خان نے کہا کہ کاشف بٹ کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی ہے، اُن کے ہاں ہر موضوع ملتا ہے، زبان و بیان پہ اُن کی دسترس لائقِ تحسین ہے، جناب پروفیسر محمد سفیان صفی نے کہا کہ اِتنے کم عرصے میں اتنا عمدہ اور معیاری کلام قاری کو فراہم کرنا ایک سنجیدہ ادبی خدمت ہے جس میں کاشف بٹ نے خونِ جگر سے کام لیا ہے، کتاب پہ پاکستان اور بھارت دونوں جگہوں سے معتبر لکھاریوں کی آراء ظاہر کرتی ہیں کہ کاشف بٹ کو آگے چل کر برصغیر کی ادبی تاریخ میں ایک خاص مقام ملنے جا رہا ہے اور یہ ہزارہ اور یہاں کے ادب کے لیے ایک خوش آئند امر ہے، محترمہ فرزانہ جاناں نے کہا کہ کاشف کی شاعری کی بنیاد روایت پر ہے اور مزاحمت ان کی شاعری میں مضبوط تاثر کے ساتھ سامنے آتی ہے، جناب اسد بیگ نے کہا کہ کاشف بٹ کی شاعری بہت پختہ اور بلند مضامین کی حامل ہے اُنھوں نے غزل کو جی جان سے لکھا ہے اور اپنی نظموں میں معاشرے کے رویوں کو موضوع بنایا ہے جو کہ اپنے اندر معنویت اور ابلاغ کی پوری قوت رکھتی ہیں، جناب کرنل (ر) سید مقبول نے کہا کہ کاشف کی غزلیں دھیمے مزاج کی ہیں جو روایت سے جڑا ہونے کی نشانی ہے اور ان کی نظموں میں مزاحمتی رنگ نمایاں ہے، جناب پروفیسر بشیر احمد سوز نے کہا کہ کاشف بٹ ایک مضبوط اور پختہ قلم کار ہے اُس نے اس کتاب میں قاری کو ایسے اشعار پڑھنے کے لیے دیے ہیں جن میں سے اگر ہم ایک شعر بھی لیں تو اُس پہ بات کرنے کے لیے گھنٹوں درکار ہوں گے بحور اور اوزان پہ کاشف بٹ کی قدرت دیدنی ہے اور مضمون آفرینی ان کے کلام کا خاصہ ہے۔
جنابِ محمد بشیر رانجھا اور جناب کاشف بٹ نے اپنی اپنی گفتگو میں تقریب کے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں علامہ مشرقی فاؤنڈیشن کی جانب سے جناب کاشف بٹ اور جناب محمد بشیر رانجھا کے لیے علامہ مشرقی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا اور علامہ مشرقی کی تصانیف پیش کی گئیں، تقریب میں حویلیاں، ہری پور، ایبٹ آباد، نواں شہر، حطار، مانسہرہ اور اسلام آباد سے شعراء و ادباء کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

Sunday, October 28, 2012

"Khuda Baantt Liya Ha"

Dear Friends!
Pdf copy of book is available here.
"Khuda Baantt Liya Ha"
Poet: Kashif Butt
Publisher: Harf Academy (Pakistan)
ISBN: 978-969-8644-64-2

Monday, October 22, 2012