Sunday, May 17, 2015

خرد کی آواز دب چکی ہے

ایک نظم "خرد کی آواز دب چکی ہے" جو اب سے پہلے تک صرف چند قریبی احباب نے سن رکهی ہے.

خرد کی آواز دب چکی ہے

تها ایک شاعر کا خواب_ غفلت
جو اب حقیقت بنا ہوا ہے
مرے وطن کے جوان شاہین بن گئے ہیں
خرد کے منکر ہوئے ہیں ایسے
خرد سے محروم ہو گئے ہیں
جنوں پرستی میں حد سے آگے نکل گئے ہیں
انهیں خبر ہی نہیں کہ شاہین استعارہ ہے
ظلم کا جبر کا ستم کا
ازل سے شاہین کی جبلت میں
امن کی فاختائوں کو چیڑنا ہے
ہاں ہاں! یہ وہ پرندہ ہے جس کی فطرت درندگی ہے
وطن کے گبرو جوان مدہوش ہو چکے ہیں
درندگی کی حدوں پہ پرواز کر رہے ہیں
جنوں کی نعرہ زنی کے آگے
خرد کی آواز دب چکی ہے
مرے وطن کے جواں
مبارک کے مستحق ہیں
کہ ان کے ہاتهوں میں ایسی تلوار آ گئی ہے
جسے اسی زہر میں ڈبویا گیا تها جس کا
پیالہ سقراط نے پیا تها...

(کاشف بٹ)