Monday, July 6, 2015

ایک نظم "تم نہیں جانتے"


خداوند ِ عالم!
یہ وحشت
یہ آہ و فغاں
یہ لہو رنگ چہرے
تری خامشی.....
ظلم پر خامشی!!!!
تو کہاں ہے خداوند عالم؟
کہاں ہے؟؟؟؟
ترے لوگ جو خامشی کا سبب پوچھنے کی جسارت کریں
تو گنہگار ٹهہریں
مگر
ظلم پر خامشی ظلم ہے
میں تری خامشی کا سبب
پوچه سکتا ہوں کیا؟؟؟؟
جان سکتا ہوں کیا؟؟؟؟
گر نہیں تو یقینا......
کبهی جو تجهے مذہبی آنکه سے دیکهتا ہوں
ترے سامنے سر جهکائے فرشتے نظر آتے ہیں
جن کے چہرے سوالی مگر لب خموشی کا اظہار ہیں
خامشی کیا ہے آخر؟؟؟؟
تری بارگہ میں کوئی لب کشائی کرے تو وہی ایک مانوس آواز.....
میں جانتا ہوں جو کچه تم نہیں جانتے
پهر بهی کوئی اگر لب کشائی کرے تو اسے دشمنی سے عبارت کیا جائے
یہ دشمنی جو تری دین ہے
مذہبی آنکه تو بس یہی کچه دکهاتی ہے
کوئی اگر دیکهنے کی جسارت کرے
مذہبی آنکه جو بند کرتا ہوں
اپنے سوالوں کی گٹهری اٹهائے
بصد شوق رخت ِ سفر باندهتا ہوں
تو ہر گام پر سنگ باری....
شعوری سفر کے ہر اک گام پر میں لہو کے نشاں چهوڑتا آگے بڑهتا ہوں
میرے لبوں پر خموشی نہیں
راہ گیروں سے، اہل ِ کرم سے
یہ کہتے ہوئے بڑهتا جاتا ہوں
میں جانتا ہوں
جو کچه تم نہیں جانتے......

کاشف بٹ