Sunday, December 6, 2015

آہ.... پروفیسر زہیر کنجاہی ہم میں نہیں رہے

آہ.... پروفیسر زہیر کنجاہی ہم میں نہیں رہے. برادرم فصیح اللہ جرال اور فاروق المنان نے پاکستان سے یہ افسوس ناک اطلاع دی...... کیا لکھوں..... کیسے لکھوں.... بے یقینی کی کیفیت ہے. زہیر صاحب کے ساتھ ان گنت شاموں کی سہانی یادیں وابستہ ہیں.کئی سالوں پہ محیط خط و کتابت الگ سے. رکھ رکھاو والی شخصیت. محبت اور شفقت سے پیش آتے. سادہ مزاج..... جو محسوس کیا بول دیا. شعر و نثر دونوں جانب برابر میلان تھا. کئی کتب شائع ہو چکی تھیں جن میں صورت_ اظہار، ترا آئینہ ہوں میں، کسی شام آ کر ملو مجھے، عرفان محل، سوز_ فرقت، مضراب_ فکر، محبت اور خون اور دیگر شامل ہیں. کچھ وقت پہلے ایک نہایت اہم اور تحقیقی نوعیت کی کتاب "مقدمہ سراجین" برادرم بشیر رانجھا کے ادارے میں چھپنے کے لیے دی تھی جس کا اہل ادب کو طویل عرصہ سے انتظار تھا. علاوہ ازیں اسی سال ناول کے پیراے میں آب بیتی مکمل کی تھی جس کے لیے پبلشر ڈھونڈ رہے تھے. جانے کس چھاپہ خانے میں ہو.
اللہ عزوجل مغفرت فرماے اور پس ماندگان کو صبر و استقامت دے. آمین.
زہیر صاحب کا ایک شعر ہے:
خاک کے پردوں میں یارو جب نہاں ہو جاؤں گا
ایک افسانہ بنوں گا داستاں ہو جاؤں گا