Poetry











مجھے خوابوں میں رہنے دو

سنو ! ہم لوگ خوابوں کے مسافر ہیں
ہمیں خوابوں میں رہنے دو
یہ مقتل سے نکلتی چیختی آہیں
یہ کشت و خون کے قصّے
یہ انساں کے کٹے نعشے
لٹی عصمت لیے یہ دخترِ حوا
جسے ظالم درندوں نے
ہزاروں التجاؤں کے صلے میں بس
مسلسل آبروریزی تھمائی ہے
یہ پنچایت کے فرسودہ اصولوں کی ستائی دخترِ حوا
جسے اپنے عزیزوں کے
گناہوں کے عوض قربان ہونا ہے
یہ چہروں پر پڑے تیزاب کے چھینٹے
یہ آنکھوں میں پڑی وحشت کی کھائی جس کے دامن میں
ہزاروں خواب بس تعبیر کی خواہش لیے دم توڑ دیتے ہیں
یہ طبلے کی بدلتی تھاپ پر رقصاں
طلسمِ حسن سے بجلی گراتے جسم کی مالک
طوائف کے بدلتے زاویے جن کے پسِ پردہ
کئی مجبوریاں کروٹ بدلتی ہیں
کئی آہیں ترنّم کی فضا میں ڈوب جاتی ہیں
یہ تقسیمِ وراثت سے ہراساں جاہلوں کے فیصلے جن کے نتیجے میں
ہزاروں لڑکیاں بابُل کے آنگن میں
درختوں سے لگی عمریں بتاتی ہیں
مگر رخصت نہیں ہوتیں
کھلی آنکھوں سے جس کے خواب تکتی ہیں
وہ شہزادہ کبھی لینے نہیں آتا
مسلسل کربِ تنہائی بدن کو توڑ دیتا ہے
یہ ایسی صنف ہے ظلم و ستم نے جس کا دامن تھام رکھا ہے
جسے بس شومئی قسمت پہ رونا ہے
جسے حالِ دلِ مضطر سنانے کی
اجازت تک نہیں ملتی
جہاں سے حق ملے کھویا ہوا اِس کو
یہاں ایسی کوئی انصاف کی چوکھٹ نہیں ملتی
یہ کچی بستیوں میں سانس لیتی زندگی
جس کا تصور بھی بھیانک ہے
یہ بھوکے پیٹ سڑکوں پر پڑے مفلس
جنھیں فاقہ کشی نے اس قدر بے حال رکھا ہے
کہ آنتیں بھی سکڑ جائیں
برہنہ پن جنھیں بس خوار کرتا ہے
لباسِ مفلسی عنقا
غبارِ رہ بدن کی بے لباسی دور کرتا ہے
جنھیں نت راہ گیروں کے رعونت ساز لہجوں کی
اذیّت سہنی پڑتی ہے
مگر ہر حال میں ہر پل
زباں بندی ازل سے اِن کا شیوہ ہے
یہ دن بھر کارخانوں میں مشقّت کرتے محنت کش
جنھیں اپنے گھرانوں کی
کفالت کے فرائض بھی نبھانے ہیں
معیشت کے اصولوں سے بندھے
دو وقت کی روٹی کی خواہش میں
اندھیرے منہ کرایے کے مکانوں سے نکلتے ہیں
مگر جب کارخانوں کی پُرانی کھانستی بھاری مشینوں سے اُلجھتے ہیں
تو ایسے میں سُبک رو وقت بھی آہستہ چلتا ہے
سرِ شہرِ فروزاں جب اندھیرے چھانے لگتے ہیں
تو دن بھر کی مشقّت سے تھکے ماندے یہ محنت کش
مشینوں سے الگ ہوتے ہیں
لیکن پائے لرزاں بڑھ نہیں پاتے
مکاں تک کی مسافت تلخ تر محسوس ہوتی ہے
مکاں جس کے در و دیوار سے حسرت ٹپکتی ہے
مکاں جو گھر کے رُتبے کو ترستا ہے
جہاں معصوم بچے آئے دن
ماں باپ کے جھگڑوں میں پستے ہیں
جہاں ہر سمت وحشت راج کرتی ہے
مسائل کے جھمیلوں میں سکوں اِک خواب لگتا ہے
غریبی نا گہاں آسیب کی صورت
سبھی خوش کن مواقع چھین لیتی ہے
غریبوں پر سبھی تہوار پھر ایسے گزرتے ہیں
خزاں جیسے گلستاں سے گزرتی ہے
یہ وسطِ شہر میں تعمیر عالی مرتبت گھر اہلِ ثروت کے
جو اپنی شان و شوکت کی بدولت دور سے پہچانے جاتے ہیں
مکینوں سے سدا محروم رہتے ہیں
مکیں جو سب تجارت اور سیاست کے کھلاڑی ہیں
جنھیں اپنے مکاں میں رہنے کی فرصت نہیں ملتی
مگر سامانِ آرائش سے اِس درجہ لگاؤ ہے
کہ عالی مرتبت خالی مکانوں کے لیے
نت بیش قیمت ساز و ساماں جمع کرتے ہیں
دساور سے کبھی جو لوٹ آتے ہیں
تو اپنے شوق کی تسکین کی خاطر
اندھیرے ڈھونڈتے ہیں
جن کے دامن میں سرود و رقص کی محفل سجاتے ہیں
غریبوں کے لہو کا جام پیتے ہیں
وطن کی عزت و ناموس پر کالک لگاتے ہیں
یہ مذہب کی لڑائی یہ حصولِ اقتدارِفانی کی خواہش
یہ تفریقِ مسلماں ، اختلافِ رائے پر یہ کفر کے فتوے
یہ منبر سے فقیہہِ شہر کی جذبات میں ڈوبی ہوئی بے کار تقریریں
جنھیں بس تفرقے کا بیج بونا ہے
یہ بہکاوے میں آئے لوگ واعظ کے
یہ پیشانی پہ مسجد کی چمکتا نام مسلک کا
کہ جیسے باعثِ عزت ہو آیاتِ کلام پاک سے انکارمومن کو
خدا کے نام پر جاری یہ قتلِ عام
اور وہ بھی خدا کے نام لیووں کا
یہ اسلامی تشخص کے سبق سے منخرف
عہدِ جہالت کے قبائل کی اطاعت میں
ہزاروں دیوتاؤں کی پرستش کا نظامِ ظلم جس میں
وقت کے ظالم رعونت کے گماں میں مبتلا ہو کر
عوام الناس سے سجدہ کراتے ہیں
یہ نسلی اختلافِ عام لوگوں میں
یہ پاؤں دابتے شودر برہمن کے
یہ سینوں میں اُترتے تیر طعنوں کے
یہ جمہوری حکومت کے لبادے میں
حکومت فردِ واحد کی
یہ تختِ شاہ ‘ جس کا پائداں بھی نسلِ آدم کے
لہو میں ڈوب کر رنگین ہوتا ہے
ہزاروں رزم گاہوں سے
ہزاروں قتل گاہوں تک
سفر کرتی حقیقی داستانِ ظلم کا مرہونِ منّت ہے
کہ جس کا سوچنا بھی اِک اذیّت ہے
یہ دریاؤ ں میں بہتا خون انساں کا
یہ قتلِ عام سے سہمے ہوئے انسان دنیا کے
یہ اخلاص و محبت کے لیے ترسے ہوئے انسان دنیا کے
یہ دھرتی ماں سے لپٹے ظلم سے خاءِف
سرشکِ خوں بہاتے ابنِ آدم جن کے ہاتھوں میں
صلیبوں کے نشاں تو خوب ملتے ہیں
مگر بدقسمتی سے خوش نصیبی کی
کوئی ریکھا نہیں ملتی
یہ شاہوں کی مہکتی دلربا شامیں
یہ ساغر سے چھلکتی مے
یہ بانہوں میں بہکتے جسم نازک سی کنیزوں کے
سرِدربارِ شاہی پابجولاں رقص باغی کا
یہ رقصاں باغیوں کا اعترافِ جرمِ حق طلبی
یہ شکنیں سی اُبھرتیں اہلِ دربارِ تکبر کی جبینوں پر
یہ مدہوشی کے عالم میں
کنیزِخاص کی زلفوں کو سہلاتے
جلالی فیصلے شہ کے
یہ حکمِ شاہ کی تعمیل میں سر کو جھکاتے مستعِد جلّاد زنداں کے
یہ زنجیروں کی آوازیں
یہ تلواروں کی جھنکاریں
سرِدربارِ شاہی قہقہوں کے شور میں
نیزے پہ لٹکے خون میں لتھڑے
یہ گرتے سر بغاوت کرنے والوں کے
یہ کٹتے پر فضا میں فاختاؤں کے
یہ نوحے عالمِ بالا کو چھوتے میری دھرتی کے مکینوں کے
مگر وہ عالمِ بالا بھی چُپ سادھے ہوئے خاموش بیٹھا ہے
وہ خاموشی۔۔۔ جسے ہم راز کہتے ہیں
حقیقت میں اداکاری ہے اور کچھ بھی نہیں
اور ہم۔۔۔ وہ مہرے ہیں
بساطِ زیست پر جن کی یہی اوقات ہے
شاطر جہاں چاہے وہیں رکھ دے
ہم اپنے اپنے خانوں میں ادھورے ہیں
ہمارا راستہ کوئی نہیں ہے
دیکھ لو! ہم ماتمی ہیں
یہ جہاں بھی مر چکا ہے
اب تو اِس کی راکھ باقی ہے
بھلا ایسے خرابے میں
تمہیں کیسی اُمیدوں کا سہارا ہے
بتاؤ کیا کوئی تازہ جہاں آباد کرنا ہے
نہیں۔۔۔ تو پھر یہ بہتر ہے
ہمیں خوابوں میں رہنے دو
نہیں۔۔۔ تو پھر چلو آؤ
تمہیں میں خواب کی دنیا دکھاتا ہوں
جہاں کوئی ظالم نہیں ہوتا
جہاں کوئی جابر نہیں ہوتا
جہاں عورت تقدس کی علامت ہے
جہاں عزت نہیں بکتی
جہاں فرسودہ پنچایت نہیں لگتی
جہاں رشتے کبھی قرباں نہیں ہوتے
جہاں رشتوں میں چاہت ہے
جہاں کچے مکانوں کا نشاں تک بھی نہیں ملتا
جہاں مفلس نہیں ملتے
جہاں کوئی معاشی مسئلہ اُبھرا نہیں کرتا
جہاں دولت کی بنیادوں پہ درجے طے نہیں ہوتے
جہاں اہلِ ہوس کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے
جہاں سارے برابر ہیں
جہاں پر تفرقہ دم توڑ دیتا ہے
جہاں میزان کا معیار یکساں ہے
جہاں شاہوں کی من مانی نہیں چلتی
جہاں حق دار اپنا حق نہیں کھوتے
جہاں پر فاختہ کے پر نہیں کٹتے
جہاں ہر پل فضا آزاد رہتی ہے
جہاں امن و اماں کا بول بالا ہے
میں ایسے خواب کی دنیا میں رہتا ہوں
بھلا کیسے میں اس دنیا سے نکلوں گا
مجھے خوابوں میں رہنے دو
مجھے خوابوں میں رہنے دو


غزل

کتنا ہے دل فریب ملاقات کا سفر
سونپا گیا ہے مجھ کو مری ذات کا سفر
میں خاک زاد ہوں پہ مجھے کائنات میں
درپیش ہے ازل سے سماوات کا سفر
اُس قوم کا نصیب طلوعِ سحر نہیں
جس کو عزیز ہو شبِ ظلمات کا سفر
آغاز دشمنی کا ہوا عام بات پر
پھر بستیاں اُجاڑ گیا بات کا سفر
اب زندگی ہے تیشہء آذر کی چوٹ پر
مقبول ہو رہا ہے خرابات کا سفر
کاشف غزل دلیل ہے میرے وجود کی
اظہار چاہتا ہے خیالات کا سفر
(کاشف بٹ)

غزل

جستِ خاکی نے کیا ہے آدھا سفر
روح کے آگے پڑا ہے پورا سفر
مشکلوں سے طے کیا تھا پہلا سفر
اُس نے میرے سامنے پھر رکھا سفر
وقت نے باندھا مجھے اُس زنجیر میں
جس کا ہر حلقہ تھا اُمّیدوں کا سفر
پھر سہارا ہے کسی کا کچا گھڑا
اور کنارے تک ہے اچھا خاصا سفر
منصفی گروی پڑی ہے دربار میں
بھول بیٹھی ہے عدالت اپنا سفر
تجھ پہ کھلتا مسئلہ جو کاشف کا ہے
تُو کسی شب مفلسی میں کرتا سفر
(کاشف بٹ)


(ایک غزل میں سے چند اشعار)

کیا ملا مرے مولا یہ جہاں بنانے پر
آسماں ٹھکانے پر نے زمیں ٹھکانے پر
اس لیے نہیں کھلتا آج کے زمانے پر
میں پلٹ کے آؤں گا وقت کے بلانے پر
وقت نے دریچے میں کوئی خط نہیں رکھا
تیرگی مکاں میں ہے بام و در سجانے پر
آرزو مجاور ہے دید کے تناظر میں
مسند بزرگی ہے کس کے آستانے پر
اب تلک نہیں پھیلی روشنی حقیقت کی
سائے محو حرکت ہیں غار کے دہانے پر
(کاشف بٹ)


‎(ایک غزل میں سے چند اشعار)


سرشک خون سے لبریز جام کی خواہش

عجیب تر ہے مرے ہم کلام کی خواہش
ضمیر صاحب میزان کا بھروسہ نہیں
اُسے عزیز ہے مال و مقام کی خواہش
... سرشت قیس میں عنقا تھا اک یہی عنصر
درون محمل لیلٰی قیام کی خواہش
ورائے کون و مکاں ہے خیال کی پرواز
نہیں ہے باعث قاصد پیام کی خواہش
(کاشف بٹ)

ایک جانب یزید کا لشکر
ایک جانب حسین خیمہ زن
ایک جانب ہیں تاک میں صیاد
ایک جانب ہیں پاسبان چمن
ایک جانب رواں شراب غرور
... ایک جانب لبوں کا تشنہ پن
ایک جانب ہے ظلم کی تجدید
ایک جانب نثار تن من دھن
ایک جانب حریص جاہ و حشم
ایک جانب ہے فقر پیراہن
ایک جانب ہے قاتلوں کا شباب
ایک جانب ہیں شیر خوار بدن
ایک جانب ہیں سارے پست خیال
ایک جانب ہے پاکئی دامن
ایک جانب انا پرست ہجوم
ایک جانب خدا شناس دہن
ایک جانب ہوائے بغض و عناد
ایک جانب محبتوں کی کرن
(کاشف بٹ)

غزل

ملی جو ساعت_ اظہار شاعری کر لی
اسی بہانے سہی درد میں کمی کر لی

درون_ ذات اندهیرا تها ایک مدت سے
انا کو مار لیا گهر میں روشنی کر لی

ابهی یہ راز محل سے نکل نہیں پایا
غریب_ شہر سے ملکہ نے دوستی کر لی

ابهی میں ایک دیا رکه رہا تها روزن میں
ہوا نے میرے دریچے سے دشمنی کر لی

جناب_ پیر کے حجرے میں حاضری کے بعد
مرید_ خاص کی بیٹی نے خود کشی کر لی

سبهی اصول و ضوابط کو توڑ کر کاشف
فقیہہ_ شہر نے منبر سے بے رخی کر لی
کاشف بٹ


وہ شکست پائی ہے اب کے رزم گاہ میں
نعشے ہیں اِدھر اُدھر لشکرِ تباہ میں
دامنِ کنیز ہے جب سے دستِ شاہ میں
سلطنت اُتر گئی پستیوں کے چاہ میں
ایک راز اب تلک منکشف نہیں ہوا
... روشنی ہے کیوں نہاں پردہٌ سیاہ میں
اپنے ہاتھ سے مجھے تیر توڑنے پڑے
آ گیا مرا عدو جب مری پناہ میں
عمر بھر ثواب کی حرص میں پڑے رہے
اور موت بھی ملی حالتِ گناہ میں
میں ہجومِ خلق میں ڈھونڈتا ہوں بندگی
ہر کوئی کھڑا ملا خواہشوں کی راہ میں
کاشف بٹ