Reviews & Interviews




تأثرات

کرشن کمار طور

مدیر’’ سہ ماہی سرسبز‘‘ - ہماچل پردیش(بھارت)


میں نے کاشف بٹ کا کلام جستہ جستہ دیکھا ہے۔ ان کے اشعار کو پڑھ کر جو فوری تاثر میرے ذہن میں مرتب ہوا ہے وہ یہ ہے کہ شاعر نہ صرف اپنے تئیں پُرخلوص ہے بلکہ وہ سماجی، شعری اور لسانی اکائیوں اور سچائیوں کے نزدیک بھی اتنا ہی ذی حس ہے جتنا کہ ایک سچے اور سُچے دل رکھنے والے شاعر سے توقع کی جا سکتی ہے۔
کاشف بٹ کے اشعار کی دو پرتیں بہت واضع اور غیر مبہم ہیں، ایک تو وہ جس میں وہ سطحی اور بادی النظر میں ظاہری اشیاء کو اپنی گرفت میں لینے کی سعی کرتے ہیں اور دوسری وہ جس میں وہ غالب کی طرح دشتِ تمنا کے دوسرے قدم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ دونوں مناظر ان کی اپنی ذات کی تفہیم کے حوالے سے شعری دروبست میں مدد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
کاشف بٹ کی شاعری کا ایک اور وصف اُن کی رجائیت ہے، یعنی وہ کلبۂ احزاں میں بھی قنوطیت کی بجائے خوشی کی زیریں لہر کے اثرات کو قبول کرتے ہیں اور زندگی کی کم مائیگی کو ایک بے پناہ عشق سے ممیز کرتے ہیں۔
کاشف بٹ کی شاعری کو پڑھ کر کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا پیمانۂ شعر ان کے احساسات اور شعری کائنات سے فروتر ہے تبھی تو شراب عشق اور وفور جذبات اس محدود ساغر میں سمانے سے قاصر ہیں۔
میری خدا سے دعا ہے کہ وہ ان کے اشعار کو مزید استحکام بخشے اور انہیں گلِ تر کی طرح تازہ اور رنگین رکھے، آمین۔

فکری تنوع اورجدیدآہنگ کا شاعر

خورشید اقبال

مدیرِ اعلیٰ ماہنامہ کائنات - کولکتا، بھارت



کاشف بٹ پاکستان کے نوجوان شاعر ہیں۔’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس میں غزلیں اور نظمیں دونوں شامل ہیں۔ان کی شاعری کے مطالعے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ بلا شبہ یہ اردو شاعری میں ایک نئی آواز ہے جو قدم قدم پر روایات سے بغاوت کرتی نظر آتی ہے۔غزلیں ہوں یا نظمیں، ان میں ایک نوع کی تازگی موجود ہے۔ان کی غزلوں میں موضوعات کی رنگارنگی ہے۔زندگی کے تقریباً سارے ہی رنگ ان کے اشعار میں جھلکتے ہیں۔ان میں غم جاناں کی باتیں کم ہیں اور غم دوراں کا ذکر زیادہ ہے۔
آج کل تو شعری مجموعوں کا ایک سیلاب سا آیا ہوا ہے۔آئے دن نئے نئے مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے ان میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر طبیعت مکدر ہوجاتی ہے۔موضوعات اور اسلوب کے حوالے سے بیشتر مجموعوں میںیکسانیت اور سپاٹ پن موجودہوتا ہے۔لیکن ’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘ کی غزلوں اور نظموں میں موضوعات کا تنوع اور اسلوب کی تازہ کاری ہے ۔اس میں بے شمار ایسے اشعار ہیں جو قاری کو چونکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
دامن یار ہے ہر عیب سے بالا کیوں کر
کیوں شکایات کی آندھی میں مقید ہوں میں
فلک کے پار کوئی تو نظام ہے صاحب
بھلا وہ کون ہے جو آسماں پہ رہتا ہے
عام انسان مر تو جائے مگر
مسئلہ ہے کفن کی قیمت کا
میں نے باندھا تھا ابھی رخت سفر
مجھ کو تنہا کر گیا میرا رفیق
اپنے ہاتھ سے مجھے تیر توڑنے پڑے
آ گیا میرا عدو جب مری پناہ میں
دل و دماغ پہ غلبہ ہے جذب و مستی کا
سراغ جب سے ملا ہے درون ہستی کا
میں خاک زاد ہوں پہ مجھے کائنات میں
درپیش ہے ازل سے سماوات کا سفر
کاشف کی شاعری میں زمانے کی سرد مہری اور بے راہ روی، حکمرانوں کا ظلم اورعلما کی فریب کاریوں کے خلاف احتجاج موجود ہے۔احتجاج کی یہ لہریں کبھی کبھی سونامی میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہیں:
امیر شہر نے رقص و سرود کی مد میں
غریب شہر کے منہ سے نوالہ چھینا ہے
ہو کس کو یہاں سوچ کا اظہار میسر
اس شہر کے لوگوں کو ہے تلوار میسر
کاشف سپہ میدان میں کھڑی ہے
لیکن سپہ سالار بک رہا ہے
میں اس سماج سے سمجھوتا کر نہیں سکتا
کبھی تو مجھ سے مری طرح یہ سماج ملے
بکے ہے نامِ خدا کوڑیوں کے مول یہاں
گلی گلی میں کھلی ہے دکان فتووں کی
دامنِ کنیز ہے جب سے دستِ شاہ میں
سلطنت اُتر گئی پستیوں کے چاہ میں
وہ تخت جس کا حوالہ ہے چوڑیوں کی کھنک
نہ دیکھ پائے گا تیغِ عدو کی تیز چمک
کاشف مجھے حکم تھا شہ کا قصیدہ کہوں
میرے قلم نے کیا انکار کا فیصلہ
اب اِس سماج کی تشکیلِ نو ضروری ہے
ہے اژدہاؤں کی پھنکار ہر طرف پھیلی
بوقتِ ظلم و ستم جب مری زبان کھلی
بہ حکمِ شاہ نوشتہ ملا لبوں کو سی
لیکن ایسا نہیں کہ ان کی شاعری میں صرف کڑواہٹیں ہی بھری ہوں۔اس میں کہیں کہیں محبت بھرا لہجہ بھی دکھائی دے جاتا ہے:
چاہتوں کے سبھی رنگ اے مہ جبیں
اک تری چشم انمول میں بند ہیں
عارضِ یار پہ پھیلی ہوئی سرخی کی قسم
مستئ زلف سے جذبات جنم لیتے ہیں
بر محل سامنے آجا کہ غزل کہنی ہے
تجھ کو دیکھے سے خیالات جنم لیتے ہیں
بہار روٹھ گئی ہے خزاں کا عالم ہے
کوئی تو اُس سے کہے ہو سکے تو آج ملے
حسن ہوتا ہے وقفِ آرائش
عشق جلوے کو عام کرتا ہے
مرے وجود کا سرمہ بنا دیا ہوتا
اگر حجاب ذرا سا ہٹا دیا ہوتا
اندھیرے منہ چلے آؤ زکوٰۃِ حسن دینے کو
نمازِ شکر کا سجدہ ابھی تک التوا میں ہے
کاشف بٹ ایک نوجوان شاعر ہیں لیکن ان کی شاعری میں کافی پختگی نظر آتی ہے۔کہیں کہیں ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ جھلکتا ہے تو کہیں ترقی پسند شاعری کا انداز اور کہیں جدید لب و لہجہ۔ قدیم و جدید رنگوں کی آمیزش سے کئی بڑ ے ہی خوبصورت شیڈز ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ثبوت کے طور پر یہ تین اشعار دیکھیں:
جس جگہ دستِ مسیحا ہی نہاں ہو کاشف
اک تماشا ہے وہاں زخم کا عریاں رکھنا
وہ جس نے تاج محل کو لہو سے سینچا تھا
زمانے کو نہیں معلوم کس لحد میں ہے
بدن کی قید سے روحیں نکل کے رات میں باہم
ہمارے بیچ حائل فاصلوں میں رقص کرتی ہیں
کاشف کو اچھی طرح پتا ہے کہ غزل کا فن کس قدر مشکل ہے۔لیکن انہیں اپنے آپ پر پورا بھروسہ بھی ہے۔ ان کا انداز تغزل یہ بتلاتا ہے کہ وہ بہت جلد غزلوں کی ایک منفرد اور مستند آواز بن کر سامنے آئیں گے:
غزل کہنا نہیں آسان اتنا
لہو دل کا جلائے جا رہے ہیں
میں نے غزل کے دیپ لہو سے جلائے ہیں
آئندگاں اِنھی سے ہی پائیں گے روشنی
شاعری احبابِ نکتہ داں کی لونڈی تو نہیں
آبھی سکتا ہے صحیفہ مجھ سے انساں کی طرف
’’خدا بانٹ لیا ہے ‘‘ میں غزلوں کے شانہ بہ شانہ نظمیں بھی شامل ہیں۔کاشف کی زیادہ تر نظمیں احتجاجی ہیں۔ ان میں سماج کے خلاف احتجاج اکثر ترقی پسندانہ انداز لیے ہوئے ہے۔ ’ساہوکار‘ ، ’ایندھن‘ اور ’کیوں؟‘ تو صد فی صد ترقی پسند نظمیں ہی کہی جائیں گی۔مثال کے طور پر نظم’ ساہوکار‘ کی یہ آخری لائنیں دیکھئے:
..... آج کے اخبار نے سُرخی لگائی ہے
گذشتہ شب کسی مفلس نے
اپنی لاڈلی بیٹی کو گروی رکھ کے
ساہوکار سے گندم اُٹھائی ہے
یا نظم ’ایندھن کی یہ لائنیں :
... کہ ان کچے مکانوں کی کہانی کیا فسانہ ہے
وہ افسانہ جسے اب تک
نہ افسانہ نگاروں نے ہے لکھا اور
نہ ہی اس دیس کے تاریخ دانوں نے
حقیقت بس ذرا سی ہے
کہ ان اونچے مکانوں کے لیے
کچے مکاں ایندھن بنے ہیں
بارہا ایندھن بنے ہیں
اور بس بنتے ہی جاتے ہیں
’محبت‘ ، ’نظام منصفی‘ ، ’روشنی؟‘ ، ’زمیں بولا نہیں کرتی‘، ’مسیحا‘، ’ناجائز‘، ’خراج‘، ’روایت ٹوٹ جائے گی‘ ، ’تم کو سال نو مبارک ہو‘، ’میرا ہونا آدھا سچ ہے‘ ، وغیرہ نظمیں بھی سماج کے خلاف حتجاج کے جذبے سے لبریزہیں۔
’انا‘ اور ’کیول‘ نظموں میں ذات کا کرب موجود ہے۔ ’تخلیق‘ اور ’واپسی‘ سائنسی انداز فکر لئے ہوئے ہیں (کاشف بٹ سائنس کے طالب علم رہے ہیں اور سائنس ان کی شاعری میں متعددجگہوں پر نمایاں نظرآتی ہے ) ۔ ’واپسی‘ ایک دلچسپ نظم ہے جس میں Darwinism کو الٹے پیروں چلتے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔مجموعے میں شامل نظم ’روشنی‘ میں مذہب کے ٹھیکے داروں کے خلاف بھر پور احتجاج موجود ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘ ایک قابل قدر شعری مجموعہ ہے۔نام کی مناسبت سے سرورق نہایت ہی معنی خیز اور دیدہ زیب ہے۔یہ مجموعہ یقیناً پذیرائی کے لائق ہے۔ ادبی حلقوں میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جا نا چاہئے۔

سرزمیں سخن کا گلِ نو شگفتہ۔۔۔کاشف بٹ

محمد اسفرآفاقی

ایبٹ آباد، پاکستان


کھلے تھے سامنے میرے ہزار ہا رستے
میں آشنائے رہِ حق بھٹک بھٹک کے ہوا
سال ۲۰۰۵ء کے اوائل کی بات ہے حویلیاں شہر میں ایک ادبی نشست میں جب کاشف بٹ سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو دراز قدوقامت ، سفید رنگت، متناسب جسامت اور آنکھوں میں گہری ذہانت لیے من موہنی سی صورت والے اس نوجوان کے ادبی قد کاٹھ کا اندازہ مجھے قطعی طور پر نہ ہو سکا۔بعد ازاں بسلسلۂ روزگار مجھے کچھ عرصہ اپنے آبائی شہر ایبٹ آباد سے دور رہنا پڑا۔ زہے نصیب ۲۰۰۸ء میں میرا تبادلہ پی او ایف ہسپتال حویلیاں میں ہو گیا۔ میری سرکاری رہائش گاہ چونکہ کاشف بٹ کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھی۔ یوں اس سے نشست وبرخاست کا سلسلہ چل نکلا اور روز کی ملاقاتیں معمول بن گئیں اور اس کی شخصیت کی پرتیں مجھ پر آشکار ہونے لگیں۔کاشف بٹ ناظر کو پہلی ہی نظر میں اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ انتہائی نفیس، خوبصورت، خوش لباس اور دلآویز شخصیت کا مالک ہے۔ اس کی ذات میں بلا کی خود اعتمادی، کمال درجہ تمکنت اور ایک خاص قسم کا رکھ رکھاؤ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیت بالکل اس کی شخصیت کی طرح عروج پر ہے۔ کاشف بٹ اپنے تخلیقی وجود کو سب سے الگ تھلگ رکھے ہوئے ہے۔ اس کی شاعری پر کسی شاعر کی چھاپ نہیں۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ کاشف بٹ کا نام بزمِ شعروسخن میں شگفتگی کے پھول کھلانے والوں میں نمایاں ہے۔ وہ منفرد تراکیب بنانے اور انہیں فنی طریق پر استعمال کرنے پر قادر ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کا ایک شعر ہے:
مال ہے نایاب اور گاہک ہیں اکثر بے خبر
شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ
کاشف بٹ حرف سے اٹوٹ رشتہ اور مستحکم تعلق رکنے والا، لفظ کی خوشبوسے معطر ، صاف گوئی کی چاندنی میں بھیگا اور سچ کی روشنی میں جگمگاتا، ان گنت دلوں پر حکمرانی کرنے والا مگر تکبر اور رعونت کی سیاہ گرد سے محفوظ، تیز مشاہدہ، زندگی کی دھڑکنوں پر نظرِ حیات رکھنے والااورکائنات کی کوکھ میں اترنے والا ایک حقیقی فنکار ہے۔کاشف بٹ انسان سے محبت کا خوگر، فکری اپاہجوں اور تخلیقی لحاظ سے بانجھ لوگوں سے گریزاں، اپنے منہ میاں مٹھو بننے والوں سے بیزار رہنے والا، سچا اور کھرا نوجوان تخلیق کار ہے۔ وہ روشنی کھوجنے کی راہ پر گامزن اور انسانی قدروں کا مبلغ ہے۔
شاعری انسانی ذہن اور اس کے جذبات کے اظہار کی سب سے اہم اور لطیف شاخ ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ انسان کی معاشرتی و تہذیبی زندگی پر جتنے گہرے اثرات شاعری نے مرتب کیے ہیں فنونِ لطیفہ کی کسی اور شاخ نے نہیں کیے۔ ’’ خدا بانٹ لیا ہے‘‘ کاشف بٹ کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو غزلوں اور نظموں پر مبنی ہے اور اُردو ادبیات میں بلاشبہ ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ کسی موضوع پر جب اہلِ علم کی مختلف آراء سامنے آتی ہیں تو وہ سطحی سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے وسیع مطالعے اور مختلف پہلوؤں کے بنظرِ عمیق جائزے کی صلاحیت کارفرما ہوتی ہے۔ کاشف بٹ ایک خود دار تخلیق کار ہے جو کسی کی مدح سرائی نہیں کرتا۔ کاشف بٹ کا رنگ و آہنگ اس کا اپنا ہے۔ وہ اپنے گلستانِ سخن کی آبیاری خود ہی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ ظلمت کدۂ ہستی میں روشنی کے چراغ جلانے کی تگ و دو کرنے والا باہمت تخلیق کار ہے۔ کاشف بٹ کو کثیر المطالعہ ہونے کی عادت نے بہت سے عیوب سے دور رکھا ہوا ہے۔ خوشبو کو آپ جتنا بھی بند رکھنے کی کوشش کریں گے وہ پھیلے گی اور اپنے ہونے کی گواہی دے گی۔ فکر کے بغیر کوئی بھی فن اپنے عروج کو نہیں پہنچ سکتا۔ ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس میں سچی بات کرنا اور کسی کو اس کی اصلی صورت دکھانا بہت مشکل کام ہے۔ زمانہ بہت نازک ہے۔ دستار سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔ عقل کی باتیں کی ہی نہیں جا سکتیں کہ کوئی ہوش مندی کی باتیں سننے کو تیار ہی نہیں۔ کاشف بٹ نے اپنے عہد کے انسانی دکھ سکھ کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ سماجی اور سیاسی حالات و واقعات کے آئینے میں مسائل کا ادراک کرکے اظہارِ خیال کیا ہے اور معاشرے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ ’’ خدا بانٹ لیا ہے‘‘ کی عمارت کی بنیاد حمدِ باری تعالیٰ پر قائم ہے۔ کاشف بٹ جب بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہوتا ہے تو ان الفاط میں گویا ہوتا ہے:
رحمتِ پروردگار اپنے لیے
مانگتا ہوں بار بار اپنے لیے
عاجزانہ حاضری اُس کے حضور
پھر دعائے اشک بار اپنے لیے
اور جب بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ہوتا ہے تو عقیدت کے سمندر میں ڈوب کر ان الفاظ میں گویا ہوتا ہے:
ظلمت کدے میں نور نمودار ہو گیا
جس پل میرے حضور کا اظہار ہو گیا
شاعر ایک پیامبر اور مبلغ بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی زبان کا ادب اس قوم کی سیاسی ، سماجی ، مذہبی اور معاشی زندگی کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی علاقے کی تاریخ، رسم و رواج اور رہن سہن کو جاننا ہو تو اس کا مؤثرذریعہ وہاں کا ادب ہوتا ہے۔ کاشف بٹ نے اپنی شاعری میں صرف گل و بلبل ، زلف و رخسار کی باتیں ہی نہیں کی ہیں بلکہ قاری کو نئی فکر اور نئی جہت سے متعارف کروایا ہے۔ کاشف بٹ وہ شاعر ہے جس میں دکھ اور تلخ صدمات کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہے اور جس نے لمحات کے بھاری بھر کم پتھروں کو اٹھانے کا قرینہ بھی دیا ہے۔ کاشف بٹ ایک قادرالکلام شاعر ہے۔ اس کا جنون اُسے فارغ نہیں بیٹھنے دیتا۔وہ مشرق و مغرب کے قدیم اور جدید ادب کا ایک بالغ نظرقاری ہے لیکن اسے اپنے حواس پر مسلط نہیں کرتا۔ اس پر مضامینِ نو غیب سے اترتے ہیں:
زندہ رہتا ہے فقط انسان کا حسنِ خیال
راکھ ہو جاتا ہے مل کے راکھ میں حسن و جمال
میں کہ آب و گل سے کرتا ہوں غمِ انساں کشید
وہ سمجھتا ہے مرے دل کو گزرگاہِ خیال
وہ انسانیت سے وابستہ ہر موضوع کو اپنی شاعری میں سمونے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ مزاحمت ہر انسان کا فطری عمل ہے اور یہ حساس طبع سے متعلق ہے۔ شاعر جو کچھ دیکھتا ہے اور جس زاویے سے دیکھتا ہے وہ اپنے قارئین کو اسی زاویے یا اندازِ نظر سے دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی شخصیت ، کوئی خبر، کوئی منظر یا کوئی واقعہ اس طرح ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ذہن ردِ عمل کے طور پر اسے شعر کے قالب میں ڈھال دیتا ہے۔اس کی شاعری میں زبان و بیان کی خوبیاں ، نئے مضامین و خیالات، تخیّل اور شعری محاسن اس قدر ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں:
فسانہ میری محبت کا جب سے عام ہوا
فقیہہ شہر ہے برہم عدو حسد میں ہے
غزل کے ماحول سے نکلنا بھی ایک نوحہ
غزل کے ماحول میں سکونت بھی مرثیہ ہے
تخلیقی عمل وجدان سے ہم آہنگ ہو کر کچھ سے کچھ ہو سکتا ہے۔ ذاتی محنت اور ریاضت اسے نئے رنگ عطا کرتی ہے۔ کاشف بٹ نے اپنی قوتِ مشاہدہ اور وسعتِ مشاہدہ کی بناء پر مضامینِ نو کے انبار لگائے ہیں جو اس کی منفرد خصوصیت ہے اور اس حوالے سے اس نے عصری مسائل کو ادب کا موضوع بنایا ہے۔ جس میں اس کی مہارتِ فن کی داد دینی پڑتی ہے۔ استحصال اور ظلم و ستم کی روزمرہ کی جو کارروائیاں ہیں انہیں اس دور کے جدید شعراء نے بڑے اعتماد کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ اعتماد کاشف بٹ کے ہاں بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ اس کے ہاں آفاقی شعور موجزن نظر آتا ہے۔ اس کا فطری کینوس بے حد وسیع ہے اور وہ اپنے اس کینوس میں پوری دنیا کا فکری بحران محسوس کر کے شاعری کے ذریعے اپنے تخلیقی ردِ عمل کا خوبصورت اظہار کرتا ہے۔ کاشف بٹ کا کلام صحرا میں اُگے اس پھول کی مانند ہے جس کی مہک یوں ہی فضا میں پھیل جاتی ہے:
یہ کس نے حدِ نظر تک لکیر کھینچی ہے
ہے خواب زخم رسیدہ، خیال حد میں ہے
کوئی طلسم مجھے چھو نہیں سکا کاشف
کچھ ایسی بات مرے نام کے عدد میں ہے
بہرِ نو کاشف بٹ غمِ زمانہ اور غمِ ذات کی مشترکہ سرحدوں پر محوِ سفر نظر آتا ہے۔ اس کے ہاں جہاں نزاکتِ خیال ہے وہاں فکر کی آہن گری بھی نظر آتی ہے۔ یہ متنوع اوصاف اس کے شاعر ہونے کی بین دلیل ہیں۔ وہ بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والی آنکھوں کو امید بھری تسلی دینے والا، حوصلہ افزاء مستقبل کی نوید سنانے والا شاعر ہے۔ لیکن وہ لمحۂ موجود اور ماضی قریب میں رونما ہونے والے سانحوں کو بھی بیان کرتا ہے۔ مختلف بحروں میں لکھی گئی کئی غزلیں اور ان کے فنی محاسن اس کے شعور کی پختگی اور فن پر گرفت کا پتہ دیتے ہیں۔ کاشف بٹ نے جتنا لکھا معیاری لکھا۔ اس کی شاعری میں زیست کے کئی پرت ہیں۔ اس کا ہر رنگ جدا اور ہر پرت لاثانی ہے۔ ایسے ہی قلمکار اپنی تحریروں اور تخلیق سے مطمئن ہوتے ہیں اور ادب کو ہمیشگی اور دوام بخشتے ہیں۔ تخلیق کار کو اس کے حرف کی سچائی ہمیشہ زندہ رکھتی ہے:
میں اس سماج سے سمجھوتا کر نہیں سکتا
کبھی تو مجھ سے مری طرح یہ سماج ملے
وہی مقام ہے میرے لیے مقامِ بہشت
مجھے جہاں سے کوئی شخص ہم مزاج ملے
کاشف بٹ نے اپنے کسی بھی فن پارے میں شعریت اور حسنِ شعر کو مجروح نہیں ہونے دیا اور تغزل کو برقرار رکھا ہے۔ وہ زیادہ تر منطق کے حوالے سے بات کرتا ہے اور کبھی کبھی فلسفے کے طور پر افلاطون، سقراط اور ارسطو کا ذکر چھیڑتا ہے ۔ وہ واضح اور نپے تلے الفاظ میں اپنا مافی الضمیر پیش کرتا ہے۔ کاشف بٹ بیک وقت نقاد، محقق، مبصر، ادیب، شاعر،افسانہ نویس، دانشور اور کالم نگار ہے۔ اس کی تمام تخلیقات عہدِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ ان تخلیقات میں رسمی اور فرسودہ رنگ کے بجائے چمک دمک اور رعنائی کا عنصر موجود ہے:
میرے اندر قیام کرتا ہے
کون مجھ سے کلام کرتا ہے
کاشف بٹ دعوتِ فکر میں عقل کی آزادی، خیالات کی آزاد روی اور کردار کی پختگی پر ڈٹا رہتا ہے۔وہ قحط الرجال کے موجودہ دور میں صاحبِ بصیرت انسان ہے جو اپنی نظریاتی سرحدوں سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنا گوارہ نہیں کرتا۔ وہ خدا کے بارے میں ناقص تصورات پر کڑی تنقید کرتا ہے۔ وہ مذہب کو لبادے کے طور پر استعمال کرنے والوں میں سے ہرگز نہیں۔ بلاشبہ کاشف بٹ سومنات میں پڑے بتوں کو توڑنے کا نہیں بلکہ عوام الناس کو ان کی پرستش سے باز رکھنے کا قائل ہے۔ وہ فقیہہِ شہر کو عدم کے الفاظ سے سرِ عام للکارتا ہے:
میں تو مے کش ہوں مرے ہاتھ میں شیشہ ہے عدم
تُو تو مومن ہے ترے ہاتھ میں قرآں ہوتا
اس کے مجموعہ کلام ’’ خدا بانٹ لیا ہے‘‘ کے نام سے ہی نام نہاد مذہبی اجارہ داروں کی تنگ نظری، دوغلے پن اور تفرقہ بازی سے بیزاری کا پتہ چلتا ہے۔ یہاں میں مجبوراً گلزار کی ایک مشہور نظم کے دو مصرعے حوالے کے طور پر پیش کر رہا ہوں:
ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہیں کچھ عقیدوں کے
خدا کی ذات کو سنگسار کرنا ٹھہرا ہے
اورکاشف بٹ نے اسی موضوع کو اپنے الفاظ میں کچھ یوں باندھا ہے:
تجدیدِ تعلق بھی ہے تقسیم سے مشروط
احباب نے دستورِ وفا بانٹ لیا ہے
جب کچھ نہ رہا بانٹنے کو شہر میں کاشف
اس شہر کے لوگوں نے خدا بانٹ لیا ہے
کاشف بٹ کی تخلیقات علم و بصیرت کا مظہر ہیں۔ وہ اپنی علمی بصیرت سے ایسے ایسے مناظر تخلیق کرتا ہے جن میں قاری کو اپنے دکھ اور اپنی کائنات نظر آتی ہے اور یہی رنگ اسے وسیع تر امکانات عطا کرتا ہے۔ کاشف بٹ نے اپنی جدید تر فکرِ شعر سے استفادہ کیا ہے لیکن قدیم اور جدید اسالیب، خیالات اور احساسات کو اس فنکارانہ انداز میں پیش کیا جو قاری کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے اور حیرت آشنا کرتا ہے:
بھوک نے مجبور کچھ ایسا کیا
رات میں نے جسم کا سودا کیا
یہ بھی زیور ہیں بنتِ حوا کے
گھنگرو ڈھول اور ڈھول کی تھاپ
اب زندگی ہے تیشۂ آذر کی چوٹ پر
مقبول ہو رہا ہے خرابات کا سفر
کاشف بٹ ایک نہایت ہی حساس فنکار ہے ۔ اسے اس بات کا شدید دکھ ہے کہ معاشرتی نظم و ضبط، مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ انسانی قدریں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ سماج توازن اور اعتدال سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ظلم و استبداد اور استحصال رواج پا رہا ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کے اثرات گہرے ہو گئے ہیں۔ انتشار کی بادِ سموم کو وہ کیسے محسوس کرتا ہے اس کا یہ شعر دیکھیئے:
یہ دور عہدِ جہالت کا عکس لگتا ہے
مقامِ انس ابھی تک جنوں کی مد میں ہے
’’خدا بانٹ لیا ہے‘‘۔۔۔جہاں کاشف بٹ کی تجرباتی اور تخلیقی صلاحیتوں کا واضح اعتراف ہے وہاں غزلوں اور نظموں کا چناؤ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ہرشعر اپنے اندرایک مضمون اور پیغام لیے ہوئے ہے جوکہ اس کی ذہنی اور فکری بالیدگی کا نمایاں ثبوت ہے اور اس کی حساس طبیعت کے تأثر کو اُجاگر کرتا ہے:
لمحۂ اظہار میں الجھا ہوا ہے اب تلک
دل کہ زلفِ یار میں الجھا ہوا ہے اب تلک
نیتِ اعمال پر رکھتی نہیں دنیا نظر
ہر کوئی گفتار میں الجھا ہوا ہے اب تلک
کاشف بٹ کو تاریخ کا گہرا ادراک ہے، جدید دور کے رویوں اور ادب میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کی روشنی میں اس کی شاعری کی اپنی شاخیں ہیں اور اس بات سے اس کی اٹھان کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ کاشف بٹ کے حاسۂ ادراک میں احساس کا توازن اور بصیرت کا توازن موجود ہے۔اس کی تمام تر تخلیقات میں اس کے اپنے افکار کی جھلک واضح نظر آتی ہے:
تم نہ آئے سرِ صلیبِ حق
میں رسومات سے گریزاں ہوں
دامنِ کنیز ہے جب سے دستِ شاہ میں
سلطنت اتر گئی پستیوں کے چاہ میں
رکھی ہوئی ہے طاق میں سونے کی مورتی
ڈرتا ہوں آ نہ جائے کہیں پھر سے غزنوی
کاشف بٹ کی شاعری میں روح کی تازگی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس کے اسلوبِ بیاں میں جذبے اور اخلاص کے رنگ بھی شامل ہیں اور حق و صداقت کے پھول بھی بلکہ یوں کہا جائے کہ کاشف بٹ کو سچ بولنے کا ’’ عارضہ‘‘ لاحق ہے تو بے جا نہ ہو گا۔سچ بولنے والے لوگ دروغ فطرتون کو اچھے نہیں لگتے۔ یہی وہ را ستہ ہے جو ایک طرف سے ’’ پھانسی گھاٹ‘‘ کو جاتا ہے تو دوسری جانب ’’ زہر کے پیالے‘‘ تک پہنچتا ہے۔فکرو فن، حقیقت پسندی، خیال افروزی، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور احترامِ آدمیت کے رنگا رنگ مضامین اس کی شاعری کا خاصہ ہیں۔فکر اور تخلیقی عمل میں رشتہ قائم کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے لیکن کاشف بٹ نے نہایت مہارت سے یہ مرحلہ طے کیا ہے اور اپنے احساس اور جذبوں کو اس طور شعری پیکر میں ڈھالا ہے کہ وہ اس کے کمالِ ہنر کی مثال بن گیا ہے:
جب دشمنوں سے مل کر رہبر بدل گیا تھا
دوچار ساعتوں میں منظر بدل گیا تھا
جاہل مریدنی تھی سمجھی اُسے کرامت
جب پیرِ محترم کا پیکر بدل گیا تھا
ادیب اپنے عہد کا ضمیر ہوتا ہے۔ اگرچہ خارجی کائنات انسان کے لئے مسخر کر دی گئی ہے لیکن اندر کی کائنات سے آگہی کے بغیر اسے تصرف میں لانا ممکن نہیں، بڑے تخلیق کار بڑی حقیقتوں کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اعلیٰ ترین ادب میں ہی آفاقیت ہوتی ہے:
کتنا ہے دلفریب ملاقات کا سفر
سونپا گیا ہے مجھ کو مری ذات کا سفر
میں خاک زاد ہوں پہ مجھے کائنات میں
درپیش ہے ازل سے سماوات کا سفر
جب انسان ذات کے سفر پر نکلتا ہے تو ایک ہی وقت میں خالق اور مخلوق کا محبوب بن جاتا ہے۔ کاشف بٹ اپنے تخلیقی رجحانات کو تقلیدی رویوں کے حوالے نہیں کرتا بلکہ وہ اسے ادبی بدیانتی سمجھتا ہے۔کاشف بٹ کے پاس امکانات کی بھرمار ہے۔ وہ خوابیدہ معاشرے میں صرف انقلاب آنے کے خواب نہیں دیکھتا بلکہ جو راستہ اس انقلاب تک پہنچتا ہے اس پر قدم رکھنے والوں میں سے ہے اور اپنی تخلیقات سے اس نے یہ بات سچ ثابت کر دکھائی ہے:
اب اِس سماج کی تشکیلِ نو ضروری ہے
ہے اژدہاؤں کی پھنکار ہر طرف پھیلی
یزیدِ وقت کا پھر سے رہِ حق میں پڑاؤ ہے
حسین ابنِ علی پھر سے اکیلا کربلا میں ہے
کاشف بٹ نے اپنی شاعری میں کہیں بھی بے جا مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا اور نہ ہی کسی فرسودہ موضوع کو زیرِ قلم رکھا۔ وہ لفظوں کے ایسے محل تعمیر کرتا ہے کہ ان کا نظارہ کرنے والوں کے لیے کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔ اس نے کہیں بھی مبتذل اور مردود لفظ کا استعمال نہیں کیا۔ کاشف بٹ کے اشعار بے شمار فنی لوازمات اور بھرپورداخلی اور خارجی تاثرات کے ترجمان ہیں۔ وہ بڑے کھلے دل سے اپنے اشعار میں معاشرے میں پھیلی ہوئی قباحتوں کو موضوع سخن بناتا ہے:
وہ جس نے تاج محل کو لہو سے سینچا ہے
زمانے کو نہیں معلوم کس لحد میں ہے
مطالعہ کاشف بٹ کی تنہائیوں کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ اس کی شاعری جدید ہونے کے باوجود کلاسیکی رومانوی روایت سے منسلک ہے:
بر محل سامنے آ جا کہ غزل کہنی ہے
تجھ کو دیکھے سے خیالات جنم لیتے ہیں
کاشف بٹ نے روایت کو اپنے فکر و فن کی مٹی میں گوندھ کر ایک نئے روپ سے پیش کیا ہے وہ جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بلا تکلف اپنی رائے کا اظہار کر دیتا ہے:۔ ایک خالص تخلیق کار کی پہنچ زمیں سے لے کر آسماں کی بلندیوں تک ہوتی ہے۔ وہ اپنے تخلیل کو کہیں بھی لے جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہندی کی ایک کہاوت ہے کہ ’’ جہاں نہ پہنچے روی وہاں پہنچے قوی‘‘۔ کاشف بٹ سطحی اذہان کے ادیبوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر شعر کہتا ہے۔ وہ خوبصورت جذبوں کی قبائیں بنتا اور احساس کی پوشاکیں تیار کرنے والا فنکار ہے۔ وہ اپنے قاری کو حقیقت کی تلخیوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ مہیا کرتا ہے:
لازم ہے کہ انساں کو بیدار کیا جائے
دھرتی پہ محبت کو معیار کیا جائے
اب درسِ عداوت کا انکار کیا جائے
وحشت کی عمارت کو مسمار کیا جائے
کاشف بٹ اردگرد کی ہر چیز سے اثر لیتا ہے۔ اس کا فن زندگی کے تلخ و ترش اور شیریں تجربوں کو مجتمع کرکے ٹھوس حقیقتوں کی طرف گامزن ہے۔ یہ انداز مدتوں روزوشب کرب فکر جھیلنے سے حاصل ہوتا ہے:
آدمی کی حرکت کو دائرے میں رکھا ہے
یاں خدا نے انساں کو فاصلے میں رکھا ہے
صالح ادب سے ہی قومیں ارتقاء کے مراحل طے کرتی ہیں۔ نادر تخیّل ، عمدہ و اعلیٰ تمثیل ، خوبصورت اور شگفتہ الفاظ ، انوکھی و جان دار تراکیب ، رفعت مآب مضمون ، ہموار زمین، فنیس پیرائیہ ، دل نشیں کنایہ، لطیف استعارہ، رواں بحر ، دل کش ابلاغ اور مؤثر لہجہ کاشف بٹ کی شاعری کے اجزائے حسن ہیں:
شاعری احباب نکتہ داں کی لونڈی تو نہیں
آ بھی سکتا ہے صحیفہ مجھ سے انساں کی طرف
عین ممکن ہے شرابی سے کرامت کا ظہور
در کھلا ہے میکدے کا شہرِ ایماں کی طرف
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ کاشف بٹ اپنے عہد سے بھی بہت آگے کا شاعر ہے۔ اس کی ہر تخلیق جذبے ، فکر اور فلسفیانہ خیالات سے معمور ہے۔ اس نے اپنی تخلیقات سے ایسے ایسے کرشمے دکھائے ہیں جو عروض و اوزان پر اس کی قدرت کا آئینہ دار ہیں:
لفظ کا معنی بدل جاتا ہے یہاں
ہر مفسر کا ہے اپنا اپنا جہاں
شرک لگتی ہے اُسے کاشف کی غزل
لطف دیتا ہے جسے واعظ کا بیاں
ایسی پڑی ہے رُخِ گل پہ شکن
چھوڑ دیا ہے عنادل نے چمن
کاشف کے ہاں جذباتی یا شہرت کی خاطر جزوقتی موضوعات کا رنگ نہیں ہے، اس نے ہمارے ہاں کی زبوں حالی اور موقع پرستانہ سماجی صورت حال کے خلاف اپنے مخصوص رنگ میں اظہارِ خیال کیا ہے، جو بے حد تاثیر اور فکری پختگی پر دلالت کرتا ہے:
میری شکست کا باعث مرے اصول بنے
تمام عمر نہ آیا ہنر سیاست کا
جھکے ہیں وقت کے آگے انھی کے سر کاشف
ملا تھا اذن جنھیں وقت کی امامت کا
کاشف بٹ کو شعری اظہار کی بے پناہ قوت ودیعت ہے جس کی بنیادی وجہ یہی سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے تصور فن سے نہایت خلوص اور لگن کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس کے کلام میں مقصدیت ، انفرادیت اور گہرائی ہے۔ اس کی غزل میں ایک راست گو انسان کا تصور ابھرتا ہے:
منصفی گروی پڑی ہے دربار میں
بھول بیٹھی ہے عدالت اپنا سفر
پھر سہارا ہے کسی کا کچا گھڑا
اور کنارے تک ہے اچھا خاصا سفر
انگریزی ادب کے مطالعے نے کاشف بٹ کے وژن کو ایک خاص صلاحیت عطا کی ہے۔ اسے گھپ اندھیرے میں دئیے جلانے کا جنون ہے۔ تیرگیوں سے سمجھوتا اس کے مزاج میں نہیں ۔ وہ فکری اور جمالیاتی جہتوں کی کھوج میں رہتا ہے۔ فکر و تفکر کے بغیر کسی اچھے شعر کا اظہار ممکن نہیں ہوتا:
بشر نے سیکھ لیا ہیر پھیر لفظوں کا
حیات مقصدِ الہام تک نہیں پہنچی
کاشف بٹ کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ اتنے پختہ اور عمدہ شعر کہتا ہے جو ہمارے ہاں بعض عمر رسیدہ شعراء کو بھی نصیب نہیں ہوتے۔ تخلیقی عمل کسی تخلیق کار کے لیے قدرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے۔ ایک ایسا ہنر ہے جو فنی جمالیات کی حسی کیفیات کا تہہ در تہہ اظہاراتی روپ ہے۔ ایسا روپ جو کبھی شعور کبھی لاشعور کے درمیانی راستوں سے ہوتا ہوا کسی فن پارے کو اپنی منزل قرار دیتا ہے۔ یہ وہی وصف ہے اور اس کے لیے کوئی بھی وقت ، مقام یا زمانی حد بندی مقرر نہیں ہے۔اس کی شکل بھی ایک سی نہیں ہوتی اس کا معیار اور شدت وحدت کا زمانہ بھی ایک سا نہیں ہوتا۔ تخلیقی عمل وجدان سے ہم آہنگ ہو کر کچھ سے کچھ ہو سکتا ہے۔ ذاتی محنت اور ریاضت اسے نئے رنگ عطا کر سکتی ہے:
حیرت کدۂ ذہن کا در چومتے ہوئے
گزرا ہے اک خیال ابھی جھومتے ہوئے
شاعری ماحول اور ضمیر کی آمیزش سے جنم لینے والا ایک وجدانی حوالہ ہے جس کے ذریعے شاعر اپنے فکری آدرش سے شعری تخلیق کے کئی در کھولتا ہے۔ کاشف بٹ بنیادی طور پر ترقی پسندانہ رویوں کا حامل ہے۔ اس لیے اس کی شاعری میں استعماری قوتوں سے بیزاری کے عناصر موجود ہیں:
کیا خبر نعرۂ حق لگانا پڑے
کیا خبر معبدوں کو گرانا پڑے
کیا خبر بیچ بازار آنا پڑے
کیا خبر خود پہ داؤ لگانا پڑے
غزل نگاری کے علاوہ نظم پر بھی کاشف بٹ کی دسترس یکساں ہے۔ اس کی نظمیں تخلیق، محبت، کیوں، لاحاصل، روشنی، مسیحا، واپسی، زمیں بولا نہیں کرتی، ایندھن، میرا ہونا آدھا سچ ہے، ناجائز، خراج، روایت ٹوٹ جائے گی، تم کو سالِ نو مبارک ہو، ساہوکار، اس کی تمام نظمیں موضوع کے اعتبار سے اپنی شعریت سے پورا پورا انصاف کرتی ہیں۔یہاں میں خاص طور پر اس کی ایک طویل نظم ’’ مجھے خوابوں میں رہنے دو‘‘ کا ذکر کروں گا۔ کاشف بٹ نے اس نظم میں تمام موضوعات کو جگہ دی ہے۔ اس کی نظم منفرد شاعرانہ صفات کی حامل اور تہذیب یافتہ ہے۔ متانت، توازن اور نفاست اس کی نظم کی خصو صیات ہیں۔ اس کی نظم کو پڑھ کر میں یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کہ مستقبل کا محقق اور مورخ کاشف بٹ کی شاعری سے صرفِ نظر نہیں کر پائے گا۔ میرا مقصد ہرگز یہ بھی نہیں کہ میں کاشف بٹ کا ادبی قد کاٹھ بڑھانا چاہتا ہوں۔ ویسے بھی جو لوگ ادبی سطح پر آپ اپنی پہچان ہو چکے ہوں ان کو میری مہیا کی ہوئی بیساکھیوں کی کیا احتیاج ہے اور پھر کاشف بٹ جیسے تخلیق کار کے معیار کو پرکھنا میرے بس میں ہے ہی نہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
وقت فیصلہ دے گا حرف کی عدالت میں
میں کہاں ٹھہرتا ہوں تو کہاں ٹھہرتا ہے
کاشف بٹ نے اپنے فہم کو تخیل کی صورت دینے کے لیے بہت مہارت سے کام کیا ہے۔ اس کی نظمیں تخت و تاج کے ہوس کاروں کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ اس نے کئی ایک نظموں میں معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں اور خرابیوں کو کہانی کے انداز میں پیش کر دیا ہے۔ اس کی نظموں میں غمزدہ معاشرے کے احساسات و جذبات منعکس ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی نظمیں جہاں مکمل ابلاغ کرتی ہیں وہاں فن کی پرکاری اور سوچ کی لطیف تہہ داری بھی نظر آتی ہے۔ اس کی ہر نظم میں ہمارے عہد کے سیاسی و سماجی مسائل کی جھلک نظر آتی ہے اور ہر نظم ایک کہانی بیان کرتی ہوئی بھی محسوس ہوتی ہے۔ عروسِ سخن کا دامن کاشف بٹ جیسے تخلیق کاروں سے آباد رہے گا۔

گہرے لسانی شعور کا حامل شاعر۔۔۔کاشف بٹ

پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم

لاہور۔ پاکستان


آشوبِ آگہی کو حرفِ سخن میں ڈھل جانے تک اور سیلِ وحشت کو نوکِ قلم تک لانے میں جن قیامت خیز کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ کاشف بٹ کے اِس مجموعے کی ہر غزل اور ہر نظم سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، سیاسی اور سماجی جبر کے خلاف کاشف کی آواز بہت نمایاں ہے۔
کلاسیکی روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے منفرد انداز اختیار کرنا ناممکنات میں سے ہے لیکن اُس نے نہایت آسانی اور سہولت سے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔ وہ تخلیقی عمل میں مواد اور اُس کی پیش کش کے ارتباط پر کامل یقین رکھتا ہے اور یہی اس کی کامیابی کی کلید ہے۔ خوش آہنگ بحروں کے انتخاب کے باعث اس نے اپنی غزل کو موسیقیت اور غنائیت کے جوہر سے سرشار کیا ہے۔
ڈاکٹر دلدار احمد علوی کے توسط سے مجھے کاشف بٹ کے منتخب کلام کے مطالعے کا موقع ملا ہے تو میرا حاصلِ مطالعہ مسرت بھی ہے اور حیرت بھی۔ مسرت اِس بات کی اُس کا کوئی شعر ایسا نہیں جو دامنِ کشِ دل نہ ہو، حیرت اِس امر پر ہے کہ شاعر نے غزل کے مستقبل سے میری مایوسی کو معدوم کر دیا ہے۔
کاشف بٹ خوبصورت لفظیات اور منفرد استعارات کو پگھلا کر سیال بنا دیتے ہیں اور پھر انہیں مصرعوں کے جام میں انڈیل دیتے ہیں، یوں اُن کی تخلیق کھٹالی سے پک کر صفحۂ قرطاس پر آتی ہے تو زمینِ شعر مہکنے لگتی ہے۔
مابعد جدید غزل گو شعراء کی صف میں شامل کاشف بٹ کی شاعری اپنے رنگ، روغن اور کیفیات کے لحاظ سے ادب کے قاری کو الگ سے اپنا ذائقہ محسوس کراتی ہے۔
زیرِ مطالعہ مجموعے میں بیشتر اشعار روح کی پہنائیوں میں سما جانے اور گونج اُٹھنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں، یہ چند اشعار دیکھیں:
تجدیدِ تعلق بھی ہے تقسیم سے مشروط
احباب نے دستورِ وفا بانٹ لیا ہے
جب کچھ نہ رہا بانٹنے کو شہر میں کاشف
اِس شہر کے لوگوں نے خدا بانٹ لیا ہے
کچھ حقائق پسِ حرکات جنم لیتے ہیں
جن کے اظہار سے صدمات جنم لیتے ہیں
توڑ دیتے ہیں تعلق کو زباں کے نشتر
لغزشِ لب سے فسادات جنم لیتے ہیں
اپنے ہاتھ سے مجھے تیر توڑنے پڑے
آ گیا مرا عدو جب مری پناہ میں
سرشکِ خون سے لبریز جام کی خواہش
عجیب تر ہے مرے ہم کلام کی خواہش
میں تو جلا وطن تھا جس دم پلٹ کے آیا
دستِ عدو وہی تھا پتھر بدل گیا تھا
زندہ رہتا ہے فقط انسان کا حسنِ خیال
راکھ ہو جاتا ہے مل کے راکھ میں حسن و جمال
کیا خبر نعرۂ حق لگانا پڑے
کیا خبر معبدوں کو گرانا پڑے
نظم تخلیق بھی ہے تعمیر بھی۔ احساس اور آہنگ کی سطح پر نظم کی لائنوں کا باہمی ربط غیر معمولی ہنر مندی کا متقاضی ہے۔ تہذیبی تشخص اور ثقافتی تنوع کی آئینہ داری کے لیے نظم سب سے موثر میڈیم ہے۔ غزل کی طرح کاشف بٹ کے تخلیقی تیور اُن کی خوبصورت منظومات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ نظم ایک مکمل تخلیقی اکائی ہے، مصرعوں کو اس طرح ترتیب دینا کہ مرکزی خیال اپنی تمام تر ذیلی کیفیات کے جلو میں پوری تخلیقی توانائی کے ساتھ نظم کے کینوس پر نمایاں ہو جائے تخلیقی فطانت اور فنی ریاضت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بطور نظم نگار کاشف کی کامیابی ہی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نظموں کے مرکزی خیال کو اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیا۔
تفکر، تحیر اور ترفع کی خصوصیات پر اُستوار کاشف بٹ کی شاعری شعر و سخن کے قارئین کی مکمل اور بھرپور توجہ کی طلب گار ہے۔ حالیہ برسوں میں جن شعراء نے شاعری کے نئے موسموں کی بشارت دی ہے ہم بلا خوفِ تردید کاشف بٹ کو اُن شعراء میں شامل کر سکتے ہیں۔
کاشف بٹ جدید تر غزل سراؤں اور نظم نگاروں میں اپنے لہجے کی دو طُرفگی بیان کی رعنائی اور موضوعات کی نُدرت کے حوالے سے الگ پہچان وضع کرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ غزل ہو یا نظم اُس کے ہاں زبان و بیان کی نزاکتیں اور لطافتیں اُس کے گہرے لسانی شعور کا پتہ دیتی ہیں، دونوں اصنافِ سخن میں خیال کی موثر ترسیل اُس کی تخلیقی معجز نمائی ہے۔

کاشف: سچے جذبوں کا شاعر

پروفیسر ڈاکٹردلدار احمد علوی

لاہور

وہ میرا شاگرد ہے۔۔۔ شاعری میں نہیں۔۔۔ کیمیا میں۔ غالباََ یہ اپریل ۲۰۰۶ء کی بات ہے جب مجھے ہزارہ یونیورسٹی میں نامیاتی کیمیا کے تخصص کے آغاز کا شرف حاصل ہوا، وہ طلبہ جنھوں نے نامیاتی کیمیا کا انتخاب کیا اُن میں وہ بھی شامل تھا، جب اُسے پتا چلا کہ شعر و شاعری سے میرا بھی ایک تعلق ہے تو اُس نے چاہا کہ میں اُس کے اشعار سنوں اور اگر ممکن ہو تو اصلاح بھی کروں۔ لیکچر کے بعد جب میں اپنے دفتر آتا تو وہ بھی ساتھ آ جاتا، میری حوصلہ افزائی پا کر اپنی کوئی تازہ غزل یا نظم سناتا، میں اور اُس کے کچھ ہم جماعت جی بھر کے داد دیتے اور تبادلۂ خیالات کرتے اور یوں اکثر یہ نشست ایک تنقیدی نشست کی شکل اختیار کر لیتی، یہ سلسلہ کم و بیش ایک سال تک چلا، اِس دوران اُس نے شاعر کی حیثیت سے یونیورسٹی بھر میں شہرت حاصل کر لی تھی۔
میں بوجوہ ہزارہ یونیورسٹی کے ساتھ زیادہ عرصہ منسلک نہ رہ سکا مگر اُس کا تعلق مجھ سے قائم رہا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ بڑھتا گیا، اور اب جب میں نے سنا کہ وہ اپنا شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سے آراستہ کرنی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔
یہ ہے کاشف بٹ۔۔۔ پاکیزہ احساسات کا نوجوان شاعر، سادہ طبیعت کا مالک، ادب و آداب سے پوری طرح شناسا، سچائی کی راہوں کا مسافر۔ کاشف بٹ جس کا خیال آتے ہی لبوں پر تبسم پھیل جائے۔کاشف ایک خوبصورت انسان ہے جس کا سینہ انسان کے درد سے سرشار ہے، پاکستانیت جس کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے، وہ میرے اُن شاگردوں میں سے ہیں جن پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔
کاشف کی غزلوں اور نظموں کا ایک مجموعہ میرے سامنے ہے، سچے جذبے موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں::
رات پھر ٹوٹتے تاروں کے مناظر دیکھے
رات بھر تیرے پلٹنے کی دعا مانگی ہے
بر محل سامنے آ جا کہ غزل کہنی ہے
تجھ کو دیکھے سے خیالات جنم لیتے ہیں
فکری مضامین اُس کے ہاں بہ کثرت ملتے ہیں:
عالمِ ناسوت کی بنیاد ہے تحریک پر
لمحۂ موجود میں پنہاں ہے فردا کا سفر
اب تلک نہیں پھیلی روشنی حقیقت کی
سائے محوِ حرکت ہیں غار کے دہانے پر
نوجوان اور نو عمر شاعر پر کبھی کبھی ایک بارسوخ صوفی کا گماں ہونے لگتا ہے:
میرے اندر قیام کرتا ہے
کون مجھ سے کلام کرتا ہے
عالمِ ناصبور سے پہلے
میں کہاں تھا ظہور سے پہلے
ماورائے ذات اپنی وسعتوں میں بے کنار
اندرونِ ذات ہے ذاتِ دگر کا احتمال
کاشف بٹ کی شاعری جس ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے وہ اس مجموعہ کے ترتیب وار مطالعے سے واضع ہوجاتا ہے، کاشف نے شعرگوئی کو سنجیدگی سے لیا ہے، وہ کوئی بات کہنا چاہتا ہے، اس نوجوان شاعر کے ہاں اوزان کا جو تنوع پایا جاتا ہے وہ اس کی عمر کے بہت سے دوسرے شعراء کے ہاں بمشکل ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔مشکل زمینوں میں طبع آزمائی اوزان میں پختگی کی عکاسی کرتی ہے۔ایسا لگتا ہے کاشف سنگلاخ زمینوں میں سفر کرنے میں لطف محسوس کرتا ہے۔اسے معلوم ہے کہ مشکل اوزان کو نبھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
یوں تو کاشف نے غزل اور(آزاد) نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ہے بلکہ کر رہا ہے۔ لیکن میرے حقیر خیال میں اس کی نظم اس کی غزل سے زیادہ طاقتور ہے۔کاشف کی نظموں میں خوبصورت خیالات کو جن کا زیادہ ترتعلق سماجی مسائل سے ہوتا ہے بہت عمدہ طریقے بیان کیا جاتا ہے۔مسلسل ریاضت سے مزید نکھار اور ریفائنمنٹ آئے گی۔کاشف جذبوں کا شاعر ہے۔ وہ محبت بانٹنا چاہتا ہے۔ نفرتیں اور تنگ نظریاں اس کے نازک اور حساس دل پر تیر کی طرح برستی ہیں۔وہ معاشرے میں کشادہ قلبی اور وسعتِ نظری دیکھنے کا خواہشمند ہے۔وہ وطنِ عزیز کوہر طرح کی اونچ نیچ اور امتیازات سے پاک دیکھنا چاہتا ہے۔وہ ایک انسان دوست شاعر ہے، اور شاعری اس کے نزدیک ایک مشن ہے۔اللہ تعالیٰ نے کاشف کو نہایت تخلیقی ذہن عطاکیاہے، پھر وہ جدوجہد پر یقین رکھتا ہے، تعلیمی سفر اور ملازمت کے ساتھ وہ نہ صرف شعروسخن کے لیے وقت نکال لیتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر قلم و قرطاس کے فروغ کی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اُسے بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہوا ہے، اُس کے پاس حساس دل ہے، سوچنے والا ذہن ہے، لکھنے کی صلاحیت ہے، قلم کی حرمت سے بھی وہ آگاہ ہے، اگر اُس نے مشقِ سخن اسی طرح جاری رکھی تو کوئی وجہ نہیں کہ اِک دن وہ آسمانِ شاعری پر روشن ستارہ بن کے نہ چمکے، وہ چمکے گا، مرا وجدان کہتا ہے، جھڑیں گے اُس کے ہونٹوں سے محبت کے یونہی موتی، وہ خوشبوئیں بکھیرے گا، محبت کا یہ سوداگر دھنک کے رنگ بانٹے گا، وہ آگے اور آگے یوں ہی آگے بڑھتا جائے گا، وہ اونچا، اور اونچا، اور اونچا اُڑتا جائے گا، ہاں کاشف ہی کشفِ راز کی منزل پہ پہنچے گا، یہ راہی آخر اپنی منزلِ مقصود پائے گا، مجھے اُمید ہے کاشف سسکتی آدمیت کے لیے پیغامِ امن لائے گا، خدا اس کو ترقی دے، قلم کو اُس کے طاقت دے، اثر آواز میں اُس کی، جو حرف اُس کی زباں سے نکلے مرہم ہو، الاپے پیار کے نغمے، یونہی کانوں میں رس گھولے۔